🌷 منقبت امام علی علیہ السلام میں منظوم نذرانہ عقیدت (2)🌷
🌷 منقبت امام علی علیہ السلام میں منظوم نذرانہ عقیدت(2) 🌷
شاعر: مظاھر علی جعفری صاحب
لکھنے کے لیے حیدر کرار کم از کم
جبرئیل کے پر ہے مجھے درکار کم از کم
کرنے کے لیے مدحت شیر خدا بیاں
ھونا پڑیگا میثم تمار کم از کم
بدعت کہیں جو رونے کو ان کے لئے مجھے
لکھنا پڑے گا واقعہ غار کم از کم
شان علی ہے کیا یہ سمجھنے کے واسطے
درکار ہے سلمان کے افکار کم از کم
کرنے کے لیے دعویٰء دیدار خلد کا
ھونا پڑیگا پہلے سے زوار کم از کم
نام علی پہ بنٹتی ھے جنت ھی بھیک میں
بہلول کو لکھونگا سمجھدار کم از کم
شاعر: سید محمد باقر صاحب
روشنی کی لکیر کے پیچھے
چل جناب امیر کے پیچھے
بادشاہت ھے دونوں عالم کی
مصطفیٰ کے وزیر کے پیچھے
شاعر : شھید سید محسن نقوی
علی، جمال دو عالم، علی امام زمن
علی، وقارِ دل و خاں، علی بہارِ چمن
علی، عروجِ فصاحت، علی کمالِ سخن
علی، عرب کے اندھیروں میں حق کی پہلی کرن
علی ولی سے گریزاں نہ ھو خدا کے لیے
علی تو قوتِ بازو ھے مصطفیٰ کے لیے
علی کا نطق، "سلونی" کے آبشار کی ضو
علی کا حسن، مه و مہر میں حیات کی رو
علی ھنسے تو پہٹے دو جہاں میں صبح کی پو
علی جو چپ ھو رک جائے نبض عالم نو
علی رکے تو نوا خامشی میں ڈھلتی ھے
علی چلے تو زمانے کی سانس چلتی ھے
شاعر : شھید سید محسن نقوی
علی کا فکر،شعور حیات نو کی اساس
علی کا فقر، جہاں میں تونگری کا لباس
علی کا علم، دل آگہی شکست قیاس
علی کا حلم، کرم گستری میں عدل شناس
بھٹک رہے ھو کہاں عاقبت گری کے لیے؟
علی کا نام ھی کافی ھے رھبری کے لیے
علی ہے منزل ادراک و آگہی کا نشاں
علی ھے رونق ھنگامہ ء زمان و مکاں
علی کے دم سے دمادم رواں دواں یہ جہاں
علی کے دست کرم کی کرن کراں بہ کراں
اگر نجات کے طالب ھو تم ابد کے لیے
کبھی پکار کے دیکھو اسے مدد کے لیے
- ۰۳/۰۴/۰۵