بہت بڑے گدھے ہو ! ! !
بہت بڑے گدھے ہو ! ! !
تحریر: سید تعلیم رضا جعفری۔ متعلم جامعۃ المصطفی العالمیہ۔ قم ایران۔
انسان کے اندر پائی جانے والی ایک خصلت جو اس کو جہنمی بنا دیتی ہے وہ "تکبر و غرور" ہے؛ امام صادق علیہ السلام فرماتے ہیں: "جس شخص کے دل میں تکبر و غرور کا ایک ذرہ بھی ہوگا وہ جنت میں داخل نہیں ہوسکتا ہے" [وسائل الشیعہ، ج۱۵، ص۳۷۵]۔
ہمیں اس بیماری سے حتما دور رہنا چاہئے اس لئے کہ اس بیماری میں جو شخص مبتلا ہوجاتا ہے وہ اپنے آپ کو دوسروں سے کسی بھی لحاظ سے بڑا سمجھنے لگتا ہے ہو سکتا ہے انسان کبھی کبھی مال و دولت و منصب و مادیات کی وجہ سے غرور و تکبر کرنے لگے لیکن کبھی یہ ہوسکتا ہے کہ انسان کبھی کبھی اپنے آپ کے اچھے و نیک ہونے و عبادت گزار و صاحب علم و فضل ہونے اور دوسروں کے گنہگار و نیکیوں سے دور ہونے اور کم علم و کم فضل ہونے کے لحاظ سے برتر بینی و غرور کا شکار ہوجائے اور ایسے وقت پر سامنے والا شخص جو گنہگار ہو وہ توبہ کرلے اور اس کا انجام خیر و نیکی پر ہوجائے لیکن ہم غرور و تکبر کی وجہ سے بدبختی کے شکار ہوجائیں۔
ایک داستان اور ایک حقیقت:
شیطان کے بارے میں بیان ہوا ہے "تکبر و غرور" ہی لے ڈوبا تھا چنانچہ روایت نقل ہوئی ہے کہ جب پیامبر اکرم[ص]، معراج پر تشریف لے جاکر واپس لوٹے تو دوسرے دن شیطان آپ کی خدمت میں آیا اور عرض کیا: یا رسول اللہ[ص]، جب آپ کل رات معراج پر تشریف لے گئے تھے تو چوتھے آسمان پر دائیں طرف ایک منبر تھا جو جلا ہوا اور ٹوٹا پڑا تھا، کیا آپ نے اس منبر کو پہچانا کہ وہ کس کا ہے؟
آنحضرت[ص]، نے فرمایا: نہیں تم ہی بتاو وہ کس کا ہے؟
شیطان نے عرض کیا: وہ منبر میرا ہے، اور اس پر بیٹھنے والا میں تھا، میں اس پر بیٹھتا تھا اور ملائکہ کو درس دیا کرتا تھا، ملائکہ میرے منبر کے اطراف میں آکر بیٹھتے تھے اور میں ان کو خدای متعال کی بندگی کے طریقے سکھاتا تھا۔ ملائکہ میری عبادت و بندگی سے تعجب کرتے تھے، جب بھی میرے ہاتھ سے تسبیح گر جاتی تھی تو ہزاروں کی تعداد میں ملک آگے بڑھتے تھے اور اس کو چومتے ہوئے میرے ہاتھ میں دیتے تھے۔ میرا یقین تھا کہ خداوندعالم نے مجھ سے بہتر کسی چیز کو نہیں پیدا کیا ہے لیکن میں نے اچانک دیکھا کہ میری یہ سوچ الٹی ہوگئی اور میں خدا کی بارگاہ سے بھگا دیا گیا اور اب خدا کی بارگاہ میں مجھ سے بڑا ملعون و بدتر کوئی نہیں ہے۔
اے محمد[ص]، کبھی مغرور نہ ہونا، کبھی تکبر نہ کرنا اس لئے کہ کوئی بھی خدا کے کاموں سے آگاہ نہیں ہے۔
اسی طرح شیطان، جناب یحیی علیہ السلام سے ملاقات میں عرض کرتا ہے کہ:
میں ملائکہ میں شمار کیا جاتا تھا، چار ہزار سال تک میں نے ایک سجدے سے سر نہیں اٹھایا تھا لیکن میرا انجام یہ ہوا کہ میں ملائکہ کی صفوں سے بھگا دیا گیا، اور اللہ کی بارگاہ میں مردود و ملعون قرار پایا۔
[کتاب خزینۃ الجواہر، ص۶۴۶]۔
مذکورہ باتوں اور داستان سے معلوم ہوتا ہے کہ چاہے انسان جتنا بھی مادیات و معنویات کے لحاظ سے بڑا ہو "غرور و تکبر" آجائے تو اللہ کی بارگاہ معلون و مردود ہوجاتا ہے اور مغرور و متکبر شخص کا انجام بھی یہی ہوتا ہے کہ وہ لوگوں کی نگاہوں میں بھی چھوٹا اور پست ہی سمجھا جاتا ہے۔
ایک لطیفہ:
ایک متکبر شخص جو اپنے لئے صاحب مقام ہونے کا خیال رکھتا تھا، ایک دن امام رضا علیہ السلام کے حرم میں سوچ رہا تھا دیکھوں امام کی بارگاہ میں میرا کیا مقام ہے؟
اس نے اپنے دل میں کہا: میرے بارے میں پہلا کلمہ جو کوئی مجھ سے آکر کہے گا وہی میرے مقام و منزلت کو بیان کرنے والا ہوگا۔
وہ شخص اسی طرح سوچ میں ڈوبا ہوا کھڑا اپنی بیوی کا انتظار کر رہا تھا کہ اس کے پاس سے ایک خاتون گزری، اس نے اپنی بیوی ہونے کے خیال سے اس خاتون سے کہا: رکو رکو ساتھ میں گھر چلتے ہیں، اس خاتون نے پلٹ کر کہا: "بہٹ بڑے گدھے ہو"۔ اس شخص نے یہ جملہ سن کر شک کیا کہ اس خاتون کا جملہ میرے مقام و منزلت کو بیان کرنے والا ہے یا نہیں۔ خاتون نے فورا پلٹ کر کہا: "شک نہ کرو، بہت بڑے گدھے ہو"۔
- ۰۳/۰۳/۲۰