حضرت امام خمینی(رح) اور اہتمام عبادات
حضرت امام خمینی(رح) اوراہتمام عبادات
تحریر : فیروز عباس۔ متعلم جامعۃ المصطفی العالمیہ۔ قم ایران
ہم یہاں پر حضرت امام خمینی(رح) کی عبادت کے اہتمام کے حوالے سے ۲ اہم یادگار واقعات کا ذکر کر رہے ہیں جو آپ کی زندگی میں اہمیت کے حامل تھے اور ان واقعات کو ان کے چاہنے والوں میں سے انکے قریبی افراد نے بیان کیے ہیں:
۱۔امام خمینی (رح) کا وضو کا طریقہ
جب امام خمینی (رح) چاہتے تھے کہ وضو انجام دیں. تو بہت ہی زیادہ اس بات پر توجہ رکھتے تھے کہ پانی کم استعمال کریں. یعنی اسراف نہ ہو. امام خمینی (رح) کا توجہ دینا یہ جزئی ترین کاموں میں سے ہے۔ ھمیشہ جمعہ کی اذان سے پہلے. غسل جمعہ کرتے تھے. اور کبھی بھی امام خمینی رہ) کا غسل جمعہ ترک نہیں ہوا ہے. اور جب بھی امام وضو کرتے تھے تو وضو کے تمام اجزاء کو قبلہ کی طرف چہرہ کر کے انجام دیتے تھے، یہاں تک کہ اگر وضو خانہ قبلہ کی طرف نہیں ہوتا تھا تو ہاتھ میں پانی لے کر پانی کا نل بند کر کے قبلہ کی طرف ہو کر چہرہ پر پانی ڈالتے تھے، امام خمینی (رح)نے اپنے آپ سے یہ تعھد کیا تھا اور انکا اعتقاد اسلامی بھی یہی تھا اس بنا پر امام ہمیشہ کوشش کرتے کہ اسی پر عمل کریں، کہ امام خمینی رہ) فرماتے تھے. مثلا، اگر وضو کرنے کے وقت اپنے خانوادہ میں سے کسی شخص کو اس بات کی طرف تذکر دیتے تھے کہ پانی حد سے زیادہ مصرف نہ کرو، تو امام خود اس بات پر عمل کرتے تھے،، امام کے نزدیک افراد میں سے ایک کا بیان ہے کہ میں اس بارے میں ایک شاھد ہوں، اس نے اس بات کو بیان کیا ہے کہ، میرے بیٹے کے دوستوں میں سے ایک نے میرے بیٹے سے کہا کہ تبرک کیلئے امام خمینی رہ کے وضو کے پانی کا تھوڑا سا پانی مجھے دو تاکہ میں اس کو بیماری کیلئے شفا کا عنوان دوں، وہ شخص کہتا ہے کہ میرے بیٹے نے مجھ سے کہا کہ،، بابا میں نے ایک شیشی امام خمینی رہ کے وضو کے پانی کا تہیہ کیا، وہ شخص کہتا میں واقعا تعجب کیا، اس لئیے میں نے بہت بار دیکھا تھا امام کو وضو کرتے ہوئے کہ، اس قدر کم وہ اپنے ہاتھ پر پانی ڈالتے تھے کہ ان کے ہاتھ سے پانی زمین پر نہ گرے، وہ شخص اپنے بیٹے سے کہا، تم نے کیا. کیا اس نے کہا میں ایک پیالی امام کے ہاتھ کے نیچے رکھ دیا، امام کےوضو کا پانی اس پیالی میں جمع ہو گیا، اس کے بعد میں نے اس پانی کو ایک دوا کی شیشی میں ڈال دیا،، یہ ہے امام خمینی رہ. جب وہ کسی کو تذکر کرتے ہیں کہ پانی اسراف نہ کرو، تو وہ خود اس بات پر عمل کرتے ہیں، اور دوسروں کیلئے نمونہ عمل ہیں۔ (پابہ پای آفتاب، ج١، ص٢٤٠)
2-نماز اول وقت
امام خمینی (رح) کی خصوصیتوں میں سے ایک خاصیت یہ بھی ہے کہ امام خمینی رہ، نماز ہمیشہ اول وقت میں پڑھتے تھے، نافلہ کو بھی بہت اہمیت دیتے تھے، یہ خاصیت ان کے اندر جوانی سے ہی تھی ابھی ان کی عمر بیس سال سے زیادہ بھی نہیں تھی ان کے اندر اندر یہ خاصیت پائی جاتی تھی، امام کے بعض دوستوں نے نقل کیا ہے کہ، ہم لوگ پہلے یہ سوچتے تھے کہ خدا نہ کرے کہ یہ بس دیکھاوے کیلئے اول وقت نماز پڑھتے ہیں. تو امام کو آزمانے کیلئے ان کے دوستوں نے مشورہ کیا کہ اگر یہ کام دیکھاوا ہے تو ان کے آگے رکاوٹ بنیں. بہت بار امام کے دوستوں نے امام کا امتحان لیا، مثلا کبھی اول وقت نماز کھانے کیلئے دسترخوان لگادیتے تھے، یا کبھی سفر پر جانے کے وقت کو نماز کے اول وقت پر رکھتے تھے، اور انکا امتحان لیتے تھے، لیکن امام کہتے تھے آپ لوگ کھانا کھاؤ میں نماز پڑھتا ہوں، جوکچھ بچے گا میں کھالونگا، یا سفر پر جانے کے وقت کہتے تھے کہ تم لوگ جاؤ، میں بھی جاؤنگا اور آپ لوگوں تک پہونچ جاؤنگا، اسی طرح بہت ایسابہت سارے مسالہ کزرے. لیکن امام نہ صرف یہ کہ نماز کو اول وقت پر ترک نہ کیا بلکہ امام ہم سب سے بھی کہتے تھے کہ نماز اول وقت میں پڑھیں... ۔(پابہ پای آفتاب، ج٤. ص٢٠٧)
- ۰۳/۰۳/۱۴