حضرت امام جواد علیہ السلام سے متعلق چند اہم واقعات
حضرت امام جواد علیہ السلام سے متعلق چند اہم واقعات
تحریر: سید محمد شاداب رضوی ۔ متعلم جامعۃ المصطفی العالمیہ۔ قم ایران۔
۱۔ "دعا وہی ہے جو دل سے کبھی نکلتی ہے"۔
ابا صلت جو کہ امام رضا علیہ السلام کے قریبی اصحاب میں سے تھے کہتے ہیں: امام رضا علیہ السلام کی شہادت کے بعد مجھے مامون کے حکم سے قید کر دیا گیا۔ اور میں ایک سال تک قید میں رہا اور میں نے اپنے تمام دوست و احباب سے جو دربار میں اثر و رسوخ رکھتے تھے مدد مانگی لیکن کوئی فائدہ نہ ھوا باہر نکلنے کے سبھی راستے بند ھو چکے تھے آخر کار جب میں سب سے نامید ھو گیا تو ایک رات میں نے حضرت محمد (ص) و آل محمد اور امام جواد ع سے توسل کیا اور مدد مانگی۔ ابھی دعا کرتے ہوئے ایک لمحہ بھی نہیں گزرا تھا کہ میں نے حضرت جواد(ع) کو قید خانے میں اپنے سامنے دیکھا امام ع نے فرمایا بہت پریشان ھو ؟ میں نے کہا: جی ،اے فرزند رسول اسکے بعد خود بخود میرے پاؤں کی زنجیر کھل گئی ۔ امام ع نے میرا ہاتھ پکڑا اور ہم ایک ساتھ بند دروازوں سے گزرے اسطرح کہ افسران ہمیں دیکھ رھے تھے، لیکن کسی میں حرکت کرنے کی طاقت اور صلاحیت نہیں تھی۔ جب ھم زندان سے دور ھو گئے تو امام (ع) نے فرمایا: اب وہ تم تک نہیں پہنچ پائیں گے اور مامون تمہیں نقصان نہیں پہنچا سکتا اور ایسا ہی ہوا۔ مامون کچھ دن بعد مر گیا اور میں اس سے ہمیشہ کے لیے چھٹکارا پا گیا، الوداع کہنے سے پہلے میں نے امام سے پوچھا: اس ایک سال میں آپ میرے پاس کیوں نہیں آئے؟ جبکہ میں نےآپ کو بہت یاد کیا، امام ع نے جواب دیا: تم نے کب مجھے خلوص دل سے بلایا ؟ اس کے بعد میری آنکھ کھل گئی۔ پھر میں نے اپنے گزشتہ ایک سال پر نظر ڈالی، میں نے دیکھا کہ اس رات کے سوا پچھلے ایک سال میں میں نے کبھی بھی امام ع کو خلوص دل سے یاد نہیں کیا، صرف زبان سے امام کو بلاتا تھا مگر امید ان دوستوں سے تھی جو دربار مامون میں تھے جب سب سے نا امید ھو گیا اور امام ع سے توسل کیا تو آپ ع نے فورا میری مدد کی.
نتیجہ : ھمیں اپنی زندگی کی تمام مشکلات میں صرف معصومین علیهم السلام سے ھی خلوص دل سے دعا و توسل کرنا چاہیے کیونکہ پوری دنیا میں فقط اھلبیت ع ھی حلّال مشکلات ہیں ۔ (عیون اخبار الرضا علیہ السلام؛ ج 2، ص 245۔ بحار الانوار؛ ج 50; صفحہ 52 - جلد 49، ص 300)۔
۲۔ ماں کی توہین ناقابل فراموش
زکریا بن آدم بیان کرتے ہیں؛ کہ میں امام رضا علیہ السلام کی خدمت میں تھا جب حضرت جواد علیہ السلام جن کی عمر اس وقت چار سال سے کم تھی اپنے والد کی خدمت میں لائے گئے ۔ میں نے دیکھا کہ اس چھوٹے بچے نے اپنا ہاتھ زمین پر رکھا اور چہرہ مبارک آسمان کی طرف اٹھایا اور کچھ دیر اسی طرح سوچتا رہا۔
امام رضا علیہ السلام اپنے بیٹے کی طرف متوجہ ہوئے اور فرمایا: میرے لال، تم کیا سوچ رہے ہو؟ انہوں نے کہا کہ میں اس ظلم کے بارے میں سوچ رہا ہوں جو انہوں نے میری والدہ فاطمہ زہرا سلام اللہ علیہا کے ساتھ کیا تھا، خدا کی قسم میں ان دونوں ملعونوں کو قبر سے نکال کر جلا دوں گا اور ان کی راکھ کو سمندر میں پھینک دونگا ۔"
حضرت رضا علیہ السلام نے اپنے بیٹے کو گلے لگایا اور اس کی مبارک پیشانی کو چوما، پھر فرمایا؛ میرے والدین تم پر قربان ھو جائیں میرے بعد تم ہی امامت کے لائق ھو۔ (بحار الانوار، جلد 50، صفحہ 59)
۳۔ بولتی بند
مامون رشید نے امام جواد علیہ السلام سے کہا:
"عالم اھل سنت یحییٰ بن اکثم سے ایک سوال پوچھیں ۔"
امام علیہ السلام نے پوچھا: ایک آدمی نے صبح کے وقت ایک عورت کی طرف دیکھا، وہ عورت اس کے لیے حرام تھی، دوپہر کے قریب اس کے لیے جائز ہو گئی، جب دوپہر ہوئی تو پھر اس کے لیے حرام ہو گئی، رات کو پھر حلال ہو گئی۔ آدھی رات کے وقت اس کے لیے حرام ہو گئی،صبح پھر اسکے لئے حلال ھو گئی. کیا آپ مجھے اس کا مطلب بتا سکتے ہیں ؟
یحییٰ نے ٹھوڑی دیر سر کو جھکایا اور کہا میں نہیں جانتا۔"
امام نے فرمایا: "یہ عورت کسی اور کی کنیز تھی، جب یہ آدمی اسے دیکھتا ہے تو اس کی نظر حرام ہوتی ہے، پھر اسے خرید لیتا ہے، یہ حلال ہو جاتی ہے، وہ دوپہر کے قریب اسے آزاد کر دیتا ہے، پھر اس کے لیے حرام ہو جاتی ہے۔ شام کے وقت اس سے نکاح کرتا ہے حلال ھو جاتی ہے آدھی رات میں ظھار کرتا ہے تو حرام ھو جاتی ہے صبح کو ظھار کا کفارہ دیتا ہے، پھر وہ حلال ہو جاتی ہے۔" (کشف الغّمه، ج ۳، ص ۲۰۷ ۔ احتجاج طبرسی، ج ۲، ص ۲۴۴ و ۲۴۵ ترجمه ارشاد مفید، ج ۲، ص ۲۷۰ تا ۲۷۵ الاختصاص مفید، ص ۱۰۰)۔
- ۰۳/۰۳/۱۷
سلام
ایام به کام
دعوت می کنم برای انتشار سریع و ساده یادداشت ها و ارتباط سریع با مخاطبین وبلاگ از شبکه اجتماعی ویترین استفاده نمایید
+ اکنون نام کاربریتان ازاد است
دانلود از کافه بازار
https://cafebazaar.ir/app/ir.vitrin.app
با سپاس