حضرت امام علی(ع) حضرت فاطمہ زہرا(س) کی ازدواجی زندگی سے اہم سبق (1)
حضرت امام علی(ع) حضرت فاطمہ زہرا(س) کی ازدواجی زندگی سے اہم سبق(1)
تحریر: سید مہدی رضا رضوی۔ متعلم جامعۃ المصطفی العالمیہ- قم ایران
شادی بیاہ انسان اور بشریت کی بقا اور سماج و معاشرے کی پاکیزگی کا بہترین وسیلہ ہے کیونکہ انسان فطری طور پر محبت و سکون کا خواہاں ہے اور بغیر ساتھی کے ناقص ہے چاہے پھر وہ علم و ایمان اور اخلاقی فضائل میں کتنی ہی ترقی کیوں نہ حاصل کر لے لیکن اس وقت تک کمال مطلوبہ تک نہیں پہنچ سکتا جب تک کہ اپنے لیے ایک ساتھی کا انتخاب نہ کریں جو اسے محبت اور سکون بھری زندگی عطا کرے۔
خداوند عالم سورہ روم ایت نمبر 21 میں ارشاد فرماتا ہے کہ اس نے تمہارے لیے تمہاری ہی جنس سے جوڑا بنایا تاکہ تم اس سے چین و سکون حاصل کرو اور تم لوگوں کے درمیان پیار اور الفت پیدا کر دیا یا ایک جگہ پروردگار ارشاد فرماتا ہے کہ عورتیں تمہارے لیے لباس ہیں اور تم مرد عورتوں کے لیے سورہ بقرہ ایت نمبر 187 یعنی ایک دوسرے کو کامل کرنے والے ایک دوسرے کی آبرو اور راز کے محافظ ہو دونوں ایک دوسرے کے محتاج ہیں جس طرح سے انسان لباس کے بغیر معاشرے میں سر بلندی کی زندگی نہیں گزار سکتا اور ہر وقت اپنے نقص کا احساس کرے گا ویسے ہی بغیر ساتھی کے انسان مکمل نہیں ہے جسے قرآن کی تعبیر میں لباس کہا گیا ہے یعنی جس طرح سے لباس زینت کا سبب بنتا ہے ویسے ہی بہترین ساتھی بھی انسانی زندگی کے لیے ایک مکمل زینت کا سبب ہے۔
شادی ایک طبیعی اور فطری مسئلہ ہے لہذا اسلام میں اس میں بہت زیادہ تاکید کر رکھی ہے اور اس کو بشریت کی بقا کا ضامن قرار دیا ہے کیوں کہ شادی بیاہ صرف ظاہری اور مادی امور کا نام نہیں کہ میاں اور بیوی ایک دوسرے سے نزدیک ہوں بلکہ کچھ روحانی اور نسل کی بقا کی ضرورت اسی شادی پر موقوف ہے۔
دین اسلام اور شریعت محمدی میں اسے ایک خاص اہمیت حاصل ہے جسے ہم قرآن مجید و احادیث کی روشنی میں قولی اور عملی صورت میں یوں بیان کرسکتے ہیں:
الف- قولی صورت
قرآن اور حدیث میں اقوال کی صورت کچھ مندرجہ ذیل باتوں کی طرف اشارہ ملاحظہ فرمائیں:
١- عفت اور پاکدامنی کی حفاظت
انسان کی خواہشات جب قدرتی اور فطری طریقوں سے پوری ہوتی ہے تو اس طرح سے انسان معصیت سے اور گناہوں سے دور رہتا ہے کہ رسول خدا صلی اللہ علیہ والہ وسلم فرماتے ہیں جس نے شادی کی اس نے آدھے دین کو بچا لیا یا جو کوئی بھی چاہتا ہے کہ خدا سے پاک و پاکیزہ حالت میں ملاقات کرے وہ ضرور شادی کرے۔
٢- رشد تکامل
امام جعفر صادق علیہ السلام کا ارشاد ہے: رَکعَتانِ یُصَلِّیهِما مُتَزوِّجٌ أفضَلُ مِن سَبعینَ رَکَعةٍ یُصَلِّیها غَیرُ مُتَزَوِّجٍ (بحار الأنوار ، ج 103 ، ص 219)
شادی شدہ انسان کی دو رکعت نماز غیر شادی شدہ انسان کی 70 رکعت نماز سے بہتر ہے۔
٣- نسل میں برکت
قال رسول الله: تَنَاکَحوا تَناسَلوا تَکثُروا فَاِنّی اُباهی بِکُمُ الاُمَمَ یَومَ القِیامَة
رسول اکرم نے فرمایا شادی کرو اور صاحب اولاد ہو جاؤ اور اس طرح اپنی تعداد میں اضافہ کرو کیونکہ میں قیامت میں دوسری امتوں کے درمیان افتخار کروں گا (جامع الأخبار، تاج الدین شعیرى، ص۱۰۱)
٤- اطاعت الہی میں مددگار اور حصول ثواب
ایک مومن انسان اگر ایک مومنہ اور با سلیقہ بیوی رکھتا ہو تو وہ اطاعت الہی اور حصول ثواب میں اس کے لیے مددگار ہے بلکہ اپنی خواہش کو جائز طریقے سے پوری کرنا ثواب اور اجر کا باعث ہے جیسا کہ حضرت ابوذر غفاری نے رسول خدا کی خدمت میں عرض کی، کیا یہ ممکن ہے کہ ہم لوگ اپنی زوجہ کے ساتھ نزدیکی کر کے لذت حاصل کریں اور آخرت میں ہمارا یہ کام ثواب کا باعث بھی بنے؟ رسول خدا نے فرمایا اگر ایسے کام کو ناجائز طریقے سے انجام دے تو کیا گنہگار نہ ہوں گے؟ جناب ابوذر نے عرض کی: ہاں گنہگار ہونگے تب رسول خدا صلّی اللہ علیہ وآلہ و سلم نے فرمایا تو اگر جائز طریقے سے انجام دو گے تو اجر و ثواب کے مستحق ہو گے۔
٥- محبت، انس اور سکون کی ضرورت کا پورا ہونا
وَمِنْ آیَاتِهِ أَنْ خَلَقَ لَکُمْ مِنْ أَنْفُسِکُمْ أَزْوَاجًا لِتَسْکُنُوا إِلَیْهَا وَجَعَلَ بَیْنَکُمْ مَوَدَّةً وَرَحْمَةً ۚ (روم/٢١)
معصومین علیہم السلام کی تعلیمات میں شادی بیاہ کے سلسلے سے احادیث اور روایات کے علاوہ خود معصومین علیہم السلام کی ازدواجی زندگی ہمارے لیے ایک بہترین ائیڈیل اور نمونہ ہے۔ جس میں سے خود حضرت علی علیہ السلام اور فاطمہ زہرا سلام اللہ علیہا کے ازدواجی زندگی قیامت تک کے لیے انسانوں کے لیے ایک بہترین نمونہ ہے جسے ہم مختصر طور پر قارئین کے لیے پیش کر رہے ہیں۔
ب: عملی صورت
اس میں کوئی کوئی شک نہیں کہ اہل بیت علیہم السلام، ہدایات اور نصیحتوں پہ پہلے خود عمل پیرا نہ ہوں لہذا تاریخ اور احادیث میں ایسے نمونے مل جائیں گے جس میں اگر کوئی حلال چیز کے لیے بھی کسی کو روکا تو پہلے اس پر خود عمل کیا اس کے بعد کسی کو منع کیا ہے مثال کے طور پر خرمے اور بچے کا واقعہ۔
لیکن اس مقالے کے مجال اور نوشتے کے اختصار کو دیکھتے ہوئے ان تمام واقعات اور نمونوں سے گریز کرتے ہوئے اصل موضوع "مرج البحرین" یعنی امام علی علیہ السلام اور فاطمہ زہرہ سلام اللہ علیہا کی شادی کے عنوان سے کچھ باتوں کی طرف اشارہ کرنا مقصود و مطلوب ہے۔
(مقالہ جاجاری ہے ..... باقی قسط دوم میں پڑھیں)
- ۰۳/۰۳/۱۹